No one can change for the sake of luxury the conquered rest , the descendants of conqueror pay for what conqueror conquers?
اقبال٘ جرم تو کیا نہیں کبھی، اپنی محبت کا ،
تو پھر پشمیاں ہو کیوں ، کہ ہم ر وبرو نہیں ہوتے؟
اب کون سا زمانہ نیا آیا ، نہ غالب ، نہ اقبال اور نہ نصرت کا
، جو پسپردا، اصطراب دل تمارا؟ کس لیے
ہم نے بھی کی تجارت آج، اپنا نکما دل سوپ دیا
انکو، جو انکے نام کی مالا چپ تھا بہت، لے لیے
وہ الفاظ جو کبھی محور لب تھے انکے یا شانّ محفل
اندازِ بیاں ایسا دلکش، کہ چند بے مغی الفاظ
تھے جو زباں کے ،اک روز بیٹھے مل کر، تو
تبسم زیرلب آیأ ۔ شائد یہ بھی ، کمال ظرف انکا
#untoldstories #conquer #quest #intoxicated #trade
No comments:
Post a Comment